جلیل القدر عالمِ دین حضرت مولانا علامہ احسان احمد قاسمی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار
، مئو: کرہاں پرکھیتر کے گاؤں درؤرا (نئی بازار سے تعلق رکھنے والے جلیل القدر عالمِ دین حضرت مولانا و علامہ احسان احمد صاحب القاسمی کے انتقال کی خبر نہایت رنج و ملال کے ساتھ موصول ہوئی۔ ان کے اس دارِ فانی سے کوچ کر جانے کی اطلاع ملتے ہی پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی اور عقیدت مندوں، شاگردوں اور اہلِ علم کے درمیان گہرے دکھ اور افسوس کا ماحول پیدا ہو گیا۔مرحوم ایک بلند پایہ عالمِ دین تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کے حصول و اشاعت، دینی تعلیمات کے فروغ اور معاشرے کی اصلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی شخصیت علم و عمل، زہد و تقویٰ اور اخلاص و دیانت کا حسین امتزاج تھی۔ وہ ہمیشہ لوگوں کو دین کی صحیح تعلیمات، اخلاقِ حسنہ اور باہمی بھائی چارے کی تلقین کرتے رہے۔
اہلِ علم کا کہنا ہے کہ علماء کرام امت کے لیے مینارِ ہدایت اور چراغِ راہ ہوتے ہیں۔ ان کی مجالس سے علم و معرفت کے چشمے جاری ہوتے ہیں اور ان کی تعلیمات سے دلوں کو نورِ ہدایت نصیب ہوتا ہے۔ ایسے باوقار عالمِ دین کی جدائی یقیناً علم و حکمت کے ایک روشن چراغ کے بجھ جانے کے مترادف ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ
یعنی اللہ سے اس کے بندوں میں سب سے زیادہ خشیت رکھنے والے علماء ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھاتا کہ لوگوں کے دلوں سے نکال لے بلکہ علماء کو اٹھا لینے سے علم اٹھ جاتا ہے۔ اس اعتبار سے ایک عالمِ ربانی کی وفات علم و ہدایت کے ایک عظیم چراغ کے خاموش ہو جانے کے برابر سمجھی جاتی ہے۔
مرحوم کی دینی خدمات، علمی نقوش اور اصلاحی مساعی ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان شاء اللہ ان کا فیضانِ علم آئندہ نسلوں کے لیے بھی باعثِ ہدایت بنتا رہے گا۔
بارگاہِ ربِ کریم میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی قبر کو انوارِ رحمت سے منور فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ نیز پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Post a Comment